نئی دہلی۔25ستمبر (یو این آئی) کانگریس نے کنبہ پروری پر پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی کے بیان کے تعلق سے بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کے تبصرے پر جوابی حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ مسٹر شاہ کو اصل سچائی سے آنکھ چرانے اور دوسروں پر انگلی اٹھانے سے سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہئے ۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے پارٹی کی معمول کی پریس بریفنگ میں یہاں نامہ نگاروں کے سوالات پر کہا کہ مسٹر امیت شاہ کو حقیقت ذہن میں رکھ کر تبصرہ کرنا چاہئے ۔ بی جے پی میں کس قدر کنبہ پروری ہے ، اس کے ثبوت بی جے پی کے سینئر لیڈر پریم کمار دھومل کے بیٹے اور لوک سبھا رکن انوراگ ٹھاکر، راجستھان کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا اور چاول اسکنڈل میں پھنسے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ رمن سنگھ کے ایم پی بیٹے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ40مہینے پرانی مودی حکومت کے کام کاج کو دیکھ کر واضح ہو گیا ہے کہ بی جے پی کو حکومت چلانا ہی نہیں آتا ہے ۔ گزشتہ تین سال میں اس نے لوگوں کے خورد و نوش پر انگلی اٹھائی، گؤرکشا کے نام پر تشدد کو فروغ دیا اور لوجہاد جیسے مسائل پر ملک کا فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے کی کوشش کی۔ اب پھر انتخابات قریب آ رہے ہیں، جس کے پیش نظر بی جے پی نے اسی پالیسی کو اپناتے ہوئے پولرائزیشن کی سیاست میں ملوث ہے ۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ مودی حکومت تین سال میں اقتصادی پالیسی، ڈپلومیسی اور خارجہ پالیسی جیسے تمام محاذوں پر ناکام ہوئی ہے ۔ بی جے پی انتخابات میں کئے جانے والے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کر سکی ہے ۔کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے گجرات کے دوارکا واقع مشہور زمانہ جگت مندر میں دوارکادھیش اور شاردا پیٹھ کے شنکراچاریہ کے درشن کرکے اس سال ریاست میں ہونے والے انتخابات کے مد نظر ریاست گیر ’’نوسرجن گجرات یاترا‘‘ کے پہلے مرحلے کا آج آغاز کیا۔27ستمبر تک چلنے وا لے اپنے سہ روزہ دورے کے دوران مسٹر گاندھی سوراشٹر کے پانچ اضلاع دیو بھومی دوارکا، جام نگر، موربی،سریندرنگر اور راج کوٹ کا تفصیلی دورہ کریں گے ۔اس دوران مسٹر گاندھی اجلاسوں، میٹنگوں اور کسانوں و خواتین سمیت دیگر افراد سے ملاقاتیں کریں گے ۔ آج وہ خصوصی چارٹرڈ طیارے سے میٹھاپور ایر پورٹ پر اترے جہاں ریاستی صدر بھرت، ریاستی انچارج اشوک گھلوت اور دیگر لیڈران نے ان کا استقبال کیا۔ وہاں سے مسٹر گاندھی سیدھے دوارکا دھیش مندر پہنچے اور پوجا و آرتی میں شامل ہوئے ۔ بعد میں انہوں نے شنکراچاریہ کے شارداپیٹھ کا بھی درشن کیا۔بعد ازاں ،وہ ایک اسپیشل بس میں اپنے دورے کے لئے روانہ ہو گئے ۔ انہوں نے ہنجرا پور گاؤں کے کسانوں سے ملاقات کے لئے ایک بیل گاڑی پر بھی سواری کی ۔ مسٹر گاندھی کلیان پور، بھاٹیہ، کمبھالیہ وغیرہ ہوتے ہوئے آج شام جام نگر پہنچیں گے جہاں مقامی تاجروں سے ملاقات اور مقامی چاندی بازار میں ان کے استقبال کے بعد رات میں قیام کریں گے ۔ وہ ایک روڈشو بھی کریں گے ۔ روڈ شو کے دوران مسٹر گاندھی عام لوگوں، کسانوں دیگر لوگوں کے ساتھ بات چیت بھی کریں گے ۔آج26ستمبر کو وہ دھرول، لتی پور ہوتے ہوئے موربی ضلع کے ٹنکارہ پہنچ کر وہاں کسانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کریں گے ۔وہاں سے وہ پپلیا راج، سندھاور، کنکوٹ، کووااڈوا ہوتے ہوئے راجکوٹ پہنچیں گے ۔ وہاں وہ مقامی تاجروں کے ساتھ بات چیت کریں گے اور رات میں قیام کریں گے ۔ اپنے دورے کے تیسرے اور آخری دن یعنی27ستمبر کو وہ سب سے پہلے سریندرنگر کے چوٹلا واقع ماتا مندر میں درشن کے لئے جائیں گے اور آٹکوٹ، موٹادادوا، راکھوئی، چوبا میں خواتین سے ان کے مسائل سنیں گے اور مقامی کسانوں سے ملیں گے ۔پھر وہ متعدد گاؤں ہوتے ہوئے آخر میں جیت پور جائیں گے جہاں ان کے دورے کے پہلے مرحلے کی تکمیل پر ایک اجتماع عام سے خطاب کریں گے ۔ سفر کا دوسرا مرحلہ4اکتوبر سے شروع ہوگا۔دریں اثناء کانگریس نے آندھرا پردیش کے ورنگل میں دلتوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے دلت مصنف پروفیسر کانچا ایلیا پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے آج کہا کہ مودی حکومت میں اس طرح کے واقعات عام ہو گئے ہیں اور یہ جمہوریت کے لئے خطرناک ہے۔کانگریس کے میڈیا محکمہ کے سربراہ رندیپ سنگھ سورجے والا نے یہاں ایک بیان میں کہا کہ جمہوریت میں مصنفین، صحافیوں یا کسی بھی شخص پر اس طرح کے حملے اور قتل کو برداشت نہیں کیا جا سکتا لیکن بدقسمتی سے مودی حکومت اس طرح کے معاملات میں خاموش ہے اور اس سے حملہ آوروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔ مسٹر سورجے والا نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت میں دلتوں پر اس طرح کے حملے عام ہوتے جا رہے ہیں اور دلت مفکرین اور مصنفوں پر ملک بھر میں اس طرح کے حملے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر کانچاایلیا کی گاڑی پر کل شام وارنگل کے پراکل قصبے میں پتھر پھینک کر توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس سے پہلے ان کے خلاف بی جے پی کی اتحادی تلگودیشم پارٹی کے رہنما ٹی جی وینکٹیش نے ان کا قتل کرنے یا انہیں گلی میں ٹانگ دینے کا’’فرمان ‘‘جاری کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی اتحادی پارٹی کے ایم پی کی اس حرکت کی سخت مذمت کی جانی چاہئے ، جس پر قتل کا معاملہ بنتا ہے ۔